تیل کی مارکیٹ اس وقت تین محاذوں پر شطرنج کے کھیل کی طرح ہے:
سیاست، 2. طلب، 3. ذخائر (inventories)
سیاسی صورتحال:
امریکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ حالیہ پابندیوں میں 20 ایسی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران سے چین کو تیل فراہم کرتی ہیں۔
سفارتی موڑ:
بھارت نے تین مزید روسی انشورنس کمپنیوں کو تسلیم کر لیا ہے جو تیل کی ٹرانسپورٹیشن کے خطرات کو کور کرتی ہیں۔ یوں بھارت “آئل ایمنسٹی” (چھوٹ) کو بڑھا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار:
ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں اثر انداز ہونے والی شخصیت بن کر ابھر رہے ہیں۔
Goldman Sachs کی تحقیق (900 سے زائد ٹویٹس کا جائزہ) کے مطابق، ٹرمپ تیل کی قیمت 40 سے 50 ڈالر فی بیرل کی “comfort zone” میں پسند کرتے ہیں۔
حالیہ صورتحال:
Brent oil اس وقت 65–66 ڈالر فی بیرل پر ہے، جو کہ ٹرمپ کی پسند سے کافی اوپر ہے۔ اس لیے امریکہ براہِ راست یا بالواسطہ کوشش کرے گا کہ قیمتوں کو نیچے لایا جائے، خاص طور پر قطر اور UAE کے دورے سے پہلے، کیونکہ “قیمت کا استحکام” انرجی شراکت داری کے لیے بنیادی شرط ہے۔
لیکن Brent ابھی بھی دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر موجود ہے، کیوں؟
امریکی ڈالر کمزور ہو رہا ہے
2. ایران پر پابندیوں کی زبان سخت ہو رہی ہے
3. امریکہ چین مذاکرات سے مارکیٹ میں محتاط امید پیدا ہو رہی ہے
API ڈیٹا کا منفی اثر:
حال ہی میں جاری کردہ API ڈیٹا میں امریکی تیل کے ذخائر میں 4.29 ملین بیرل کا اضافہ دکھایا گیا (جبکہ 2.4 ملین بیرل کی کمی کی توقع تھی)۔
اب سب کی نظریں اگلی اہم رپورٹ یعنی EIA پر ہیں۔




Market is very down
Good
Bright trust academy the best trade academy
Please guide me the trading
Yes