ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹ کو تباہ کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھیڑی گئی تجارتی جنگ نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جیسے کوئی بھاری رولر اس پر چل گیا ہو۔ بلوم برگ کے مطابق، ٹويوٹا، ہونڈا، اور نسان کے شیئرز کم از کم 5% گر چکے ہیں، اور مزید کمی متوقع ہے۔

ایشیا کی برآمدات سے وابستہ اسٹاکس نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لگائی گئی نئی درآمدی ڈیوٹی کے بعد شدید نقصان اٹھایا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی محصولات (ٹیکسز) عالمی تجارتی جنگ کے ایک اور مرحلے کی شروعات ہیں۔ بلوم برگ کے مطابق، MSCI ایشیا پیسیفک انڈیکس 2% سے زیادہ گر چکا ہے۔ بہت سے ایشیائی سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ مذاکرات کے ذریعے ان محصولات کو ملتوی یا منسوخ کر دیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ان نئے ٹیرفز کی وجہ سے چینی برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی اور چین کی کمزور معیشت مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
جاپان کے بڑے کار ساز ادارے، جن کی تیار کردہ گاڑیاں یا تو میکسیکو میں بنتی ہیں یا وہاں اسمبل ہوتی ہیں ، امریکی مارکیٹ میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن جب ٹرمپ نے میکسیکو پر نئے ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تو ٹويوٹا، ہونڈا، اور نسان کے شیئرز تقریباً 5% گر گئے۔ اسی طرح جنوبی کوریا کی کار کمپنی “کِیا”، جس کا ایک کارخانہ میکسیکو میں ہے، اس کے حصص میں بھی 5% سے زیادہ کمی آئی۔
ادھر، چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں “لی آٹو” اور “ایکس پینگ” کے شیئرز 6% نیچے چلے گئے، جبکہ کھیلوں کے ملبوسات بنانے والے “لی نِنگ” اور ہوم اپلائنس کمپنی “ہائیر اسمارٹ ہوم” کے شیئرز میں 7% سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔
جاپان کے سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والے ادارے جیسے کہ “ٹوکیو الیکٹران” ، ایڈوانٹیسٹ کارپوریشن”، اور “ڈسکو کارپوریشن” کے شیئرز بھی 2% گر گئے۔ مجموعی طور پر، پورے ایشیائی اسٹاک مارکیٹ کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Share your love

Newsletter Updates

Enter your email address below and subscribe to our newsletter

error: Content is protected !!